
آزاد پتن پل سے عمیر بن ذوالفقار نے دریا جہلم میں چھلانگ لگا کر زندگی ختم کر لی۔ مہنگائی اور زندگی کے مسائل سے تنگ آ کر اس نے یہ قدم اٹھایا۔ 4 ماہ قبل شادی ہوئی تھی، والد پہلے ہی انتقال کر چکے تھے۔ اب اس کی بوڑھی ماں اور بیوہ صدمے میں ہیں۔ عمیر نے وصیت کی کہ اسے بغیر جنازہ اور کفن دفنایا جائے۔ اس کے آخری خط نے سب کو جھنجھوڑ دیا—کیا ہم اپنے آس پاس کے لوگوں کے درد کو واقعی سمجھتے ہیں؟

عمیر بن ذوالفقار کا آخری خط:
میں اپنی زندگی سے تنگ آ کر خودکشی کر رہا ہوں۔ میری وصیت ہے کہ مجھے بنا نماز جنازہ دفنایا جائے۔ میرا چہرہ دیکھنے کی اجازت کسی کو نہ دی جائے۔ میری زندگی میں کسی نے میری مدد نہیں کی، مرنے کے بعد بھی کوئی احسان نہ کرے۔
عمیر بن ذوالفقار