“غزہ: امدادی کارکنوں کی شہادت اور انسانیت کی موت”

غزہ میں انسانیت کی چیخیں

غزہ، ایک ایسی سرزمین جو اب خون، آنسوؤں، اور چیخوں کا مرقع بن چکی ہے۔ 23 مارچ 2025 کو رفح میں اسرائیلی فورسز نے ایک ایسی کارروائی کی جس نے انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی، سول ڈیفنس، اور اقوام متحدہ کے 15 امدادی کارکنوں کو، جو اپنی گاڑیوں پر واضح نشانات کے ساتھ موجود تھے، اسرائیلی فوج نے نشانہ بنایا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ان کارکنوں کی ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ اپنی جانوں کی آخری سانس لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے اسے “مکمل جنگی جرم” قرار دیا ہے۔ لیکن یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ غزہ میں جاری نسل کشی کا ایک حصہ ہے جو ہر روز نئی شدت اختیار کر رہا ہے۔

امدادی کارکنوں کی شہادت: انسانیت پر حملہ
امدادی کارکن، جو جنگ کے دوران زخمیوں اور بے گھر افراد کی مدد کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، انہیں بین الاقوامی قوانین کے تحت تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ لیکن غزہ میں اسرائیلی فورسز نے ان قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ 23 مارچ کو رفح میں ہونے والے اس حملے میں 15 امدادی کارکن شہید ہوئے، جن میں سے کچھ فلسطینی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ارکان تھے، کچھ سول ڈیفنس کے، اور ایک اقوام متحدہ کا کارکن بھی شامل تھا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ان گاڑیوں پر واضح طور پر امدادی نشانات موجود تھے، لیکن پھر بھی ان پر فائرنگ کی گئی۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ کارکن رات کے وقت اپنی گاڑیوں کی لائٹس آن کر کے جا رہے تھے، لیکن اچانک ان پر حملہ ہوا۔ یہ واقعہ نہ صرف ان امدادی کارکنوں کی شہادت کا المیہ ہے بلکہ انسانیت پر ایک حملہ ہے۔

غزہ میں ادویات کی قلت: موت کا انتظار
غزہ کے حالات صرف بمباری تک محدود نہیں ہیں۔ اسرائیل کی ناکہ بندی کی وجہ سے وہاں کے اسپتالوں میں ادویات ختم ہوتی جا رہی ہیں۔ 9 اپریل 2025 کو الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ کینسر اور خون کی بیماریوں کے 54 فیصد ادویات ختم ہو چکی ہیں۔ اسپتالوں میں مریض موت کے منہ میں جا رہے ہیں کیونکہ بنیادی ادویات تک رسائی ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوٹیرس نے غزہ کو “قتل گاہ” قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ لیکن عالمی طاقتوں کی خاموشی اس بات کی گواہ ہے کہ فلسطینیوں کی زندگیوں کی کوئی قیمت نہیں سمجھی جا رہی۔

عالمی برادری کی بے حسی: ایک شرمناک حقیقت
اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات عالمی برادری کی بے حسی ہے۔ جب امدادی کارکنوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے، جب اسپتالوں میں ادویات ختم ہو جاتی ہیں، اور جب معصوم بچوں اور عورتوں کو بمباری کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تو عالمی طاقتوں کی خاموشی ایک سوال کھڑا کرتی ہے: کیا فلسطینیوں کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں؟ اقوام متحدہ کے چھ اداروں نے مشترکہ طور پر عالمی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں خوراک اور امداد کی ترسیل کو یقینی بنائیں، لیکن اب تک کوئی ٹھوس اقدام نظر نہیں آیا۔

ہم کیا کر سکتے ہیں؟
ہم شاید غزہ جا کر لڑ نہ سکیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کچھ کر ہی نہیں سکتے۔ آواز اٹھائیں، سوشل میڈیا پر فلسطین کے حق میں بات کریں، عالمی رہنماؤں سے مطالبہ کریں کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالیں، اور امدادی تنظیموں کے ذریعے فلسطینیوں کی مدد کریں۔ ہمارا ایک چھوٹا سا عمل بھی ان کے لیے بڑی امید بن سکتا ہے۔

  انسانیت کو جگانے کی ضرورت
غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ صرف ایک جنگ نہیں، بلکہ انسانیت کی موت ہے۔ امدادی کارکنوں کی شہادت، ادویات کی قلت، اور مسلسل بمباری نے غزہ کو ایک ایسی جگہ بنا دیا ہے جہاں زندگی کا تصور بھی محال لگتا ہے۔ کیا ہم اس ظلم کو خاموشی سے دیکھتے رہیں گے؟ کیا ہمارے ضمیر اب بھی زندہ ہیں؟ آئیے، فلسطین کے لیے آواز اٹھائیں، کیونکہ اگر ہم خاموش رہے، تو انسانیت بھی خاموش ہو جائے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top