پاکستانی سیاست میں روزانہ نیا موڑ آتا ہے، مگر حالیہ انکشافات نے سیاسی فضاء کو مزید ہلا کر رکھ دیا ہے۔ سینئر سیاستدان اعظم سواتی کی طرف سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے بار بار مذاکرات کی اجازت مانگنے کا واقعہ اب زبان زد عام ہے۔
30 منٹ میں 20 بار مذاکرات کی اجازت؟
فہد شہباز کے مطابق، اعظم سواتی نے صرف 30 منٹ کے دوران 15 سے 20 مرتبہ عمران خان سے کہا:
> “مجھے مذاکرات کی اجازت دیں۔”
تاہم عمران خان نے ان کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوٹوک انداز میں کہا:
“میں انہیں آپ سے بہتر جانتا ہوں۔”
یہ جملہ گویا ایک سیاسی “شٹ اپ کال” تھی، جس نے سواتی صاحب کی تمام کوششوں کو ایک لمحے میں بے معنی بنا دیا۔
قربانیوں کی گنتی اور جیل کے قصے
اعظم سواتی نے خان صاحب کے سامنے اپنی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا:
“میں نے جیل میں قیدی بچوں کو اپنا بیٹا بنایا۔”
“1100 قیدیوں کے نسوار، سگریٹ اور کھانے پینے کا خرچہ خود اٹھاتا رہا ہوں۔”
یہ بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اعظم سواتی نے خود کو پارٹی کے مخلص اور باوفا کارکن کے طور پر منوانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر شاید عمران خان کا اعتماد کسی اور طرف تھا۔
احمد اویس کا تجزیہ: “جھوٹے پر اللہ کی لعنت”
سینئر قانون دان احمد اویس نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:
> “اعظم سواتی نے کہا: ‘جھوٹے پر اللہ کی لعنت’۔۔۔ اب یہ لعنت کب اور کیسے پڑتی ہے؟ یہ وقت بتائے گا۔”
انہوں نے اسٹیبلشمنٹ اور فوجی افسران کے کردار پر بھی کڑی تنقید کی:
“آرمی چیف نے سیاست میں فوجی افسران کو ملوث کیا۔”
“اسٹیبلشمنٹ نے حالات کو اس نہج پر پہنچایا کہ اب سوال یہ ہے:
پاکستان میں رول آف لاء (قانون کی حکمرانی) ہوگا یا رول آف اتھارٹی (طاقت کی حکمرانی)؟”