سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ 28 سالہ ریحاب الزہرانی کو اس کے شوہر نے محض اس لیے قتل کر دیا کہ اس نے 4 لاکھ ریال کا قرض اپنے نام پر لینے سے انکار کر دیا تھا۔

ظلم کی شروعات: قرض کا مطالبہ اور تشدد
ریحاب کی شادی کو صرف 10 ماہ ہی گزرے تھے کہ اس کا شوہر اس پر قرض لینے کے لیے دباؤ ڈالنے لگا۔ جب ریحاب نے انکار کیا تو اس نے اس پر تشدد کرنا شروع کر دیا۔ ریحاب نے اپنی جان بچانے کے لیے ماں کے گھر پناہ لی اور معاملہ پولیس تک پہنچا۔ پولیس نے دونوں میاں بیوی کے درمیان صلح کروائی اور ریحاب اپنی شادی بچانے کی کوشش میں شوہر کے ساتھ واپس چلی گئی۔
تیزاب گردی: ماں اور بیٹی پر حملہ
اگلے ہی دن، ریحاب کے شوہر نے ایک بوتل میں تیزاب لے کر حملہ کیا اور ریحاب کے ساتھ اس کی ماں اور بیٹی پر بھی تیزاب پھینک دیا۔ جب پڑوسیوں نے مدد کی کوشش کی تو انہیں بھی دھمکایا گیا۔ آخرکار ہمسایوں نے زبردستی دروازہ توڑ کر ریحاب کو مکہ کے النور اسپتال پہنچایا۔

ریحاب کی آخری باتیں اور وصیت
ریحاب نے اپنی آخری سانسوں میں اپنی ماں سے کہا: “میری بیٹی کو اپنی حفاظت میں لے لو” یہ الفاظ ہر ماں کے دل کو چیر دینے کے لیے کافی ہیں۔ ریحاب کی بیٹی اب یتیم ہو چکی ہے، لیکن اس کی ماں نے اپنی بیٹی کی آخری خواہش کو پورا کرنے کا عزم کیا ہے۔

آخری رسومات: مسجد الحرام میں جنازہ
ریحاب الزہرانی کی نماز جنازہ مسجد الحرام میں ادا کی گئی، جہاں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ تدفین حرم الشہداء میں کی گئی۔ لوگوں نے اشکبار آنکھوں سے اس مظلوم خاتون کے لیے دعا کی اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔
