پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات تو موجود ہیں، لیکن جان بوجھ کر پارٹی کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جیل مینوئل اور عدالت کے فیصلوں کے باوجود بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اپنی پسند کے افراد کو جیل کے اندر بھیج کر پارٹی کارکنوں میں لڑائی کروائی جا رہی ہے۔ عمران خان نے کبھی اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی مخالفت نہیں کی، لیکن انہوں نے ہر بار موجودہ حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کا بیانیہ طاقتور حلقوں کے لیے پریشانی کا باعث ہے، اسی لیے ہر مذاکراتی عمل میں اسے کنٹرول کرنے کی شرط رکھی جاتی ہے۔