اپریل 2025 ہے، اور چین نے سات نایاب دھاتوں — جیسے سیماریئم، گیڈولینیئم، اور ڈسپروسیم — پر کنٹرول سخت کر دیا ہے۔ یہ نام شاید کسی سائنس فکشن فلم کے ولن لگیں، مگر یہ دھاتیں آپ کے آئی فون سے لے کر ایف-35 لڑاکا طیاروں تک ہر جدید چیز کا دل ہیں۔
یہ مکمل پابندی نہیں، بلکہ ایک ہوشیار چال ہے — اب چینی کمپنیوں کو ان دھاتوں کی برآمد کے لیے حکومت سے اجازت درکار ہوگی۔ یعنی امریکہ، جو اپنی 70 فیصد نایاب دھاتوں کے لیے چین پر انحصار کرتا ہے، اپنی ہائی ٹیک سپلائی چین کو لڑکھڑاتا دیکھ سکتا ہے۔
یہ دھاتیں کیوں اہم ہیں؟
یہ صرف چمکدار پتھر نہیں — یہ میزائلوں کے میگنیٹس، ٹیسلا کی بیٹریوں، ونڈ ٹربائنز، اور ایل ای ڈی اسکرینز کا بنیادی خام مال ہیں۔ چین ان دھاتوں کو نکالتا ہی نہیں، بلکہ دنیا کی 90 فیصد پروسیسنگ بھی وہی کرتا ہے۔
ریئٹرز رپورٹ
امریکہ کی جوابی چال؟
امریکہ نے اپریل میں چینی مصنوعات پر 54 فیصد تک ٹیرف بڑھایا۔ چین نے بھی 84 فیصد تک جوابی ٹیرف لگا دیے — اور اب نایاب دھاتیں بھی میدان جنگ کا حصہ ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، امریکہ کے پاس محدود سٹریٹجک ذخائر ہیں، لیکن وہ کافی نہیں۔
واشنگٹن پوسٹ رپورٹ
چین دباؤ کیسے ڈال سکتا ہے؟
چین اگر چاہے تو ان دھاتوں کی برآمد پر دیر کرے، قیمت بڑھائے یا مکمل پابندی لگائے۔
نیویارک ٹائمز رپورٹ
گولڈمین سیکس نے خبردار کیا ہے کہ اگر چین نے نایاب دھاتوں پر کنٹرول مزید سخت کیا تو امریکی کمپنیوں کی آمدنی میں 20 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔
پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
یہ وہ سوال ہے جو ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا، کیونکہ پاکستان کے پاس بھی نایاب دھاتوں (Rare Earth Elements) کے ذخائر موجود ہیں، خاص طور پر:
بلوچستان (چاغی اور لسبیلہ)
گلگت بلتستان (اسکردو، شگر)
خیبر پختونخوا (شانگلہ، دیر بالا)
مگر مسئلہ یہ ہے:
پاکستان نے ابھی تک ان دھاتوں کا مکمل جیو کیمیکل سروے نہیں کیا۔
نہ ہی ہمارے پاس ریئر ارتھ مائننگ یا پروسیسنگ کی کوئی صلاحیت موجود ہے۔
کوئی واضح نیشنل ریئر ارتھ پالیسی نہیں بنائی گئی۔
پاکستان جیولوجیکل سروے کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق، ان علاقوں میں کئی قیمتی معدنیات کی موجودگی کی نشاندہی ہوئی ہے، لیکن فنڈز، پالیسی اور ٹیکنالوجی کی کمی ان ذخائر کو زمین میں ہی دفن رکھے ہوئے ہے۔
پاکستان کے لیے مواقع کیا ہیں؟
1. نیشنل منرل پالیسی میں ترمیم کر کے نایاب دھاتوں کو ترجیح دی جائے۔
2. چین یا آسٹریلیا کے ساتھ ٹیکنیکل پارٹنرشپ قائم کی جائے تاکہ مقامی پروسیسنگ ممکن ہو۔
3. علاقائی اکیڈمیاں اور ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس بنائے جائیں تاکہ لوکل ٹیلنٹ تیار کیا جا سکے۔
4. بلوچستان اور گلگت میں پرائیویٹ سیکٹر کو راغب کرنے کے لیے انسینٹیوز دیے جائیں۔
5. سٹریٹجک اسٹاک بنایا جائے تاکہ عالمی بحران میں فائدہ اٹھایا جا سکے۔
ورنہ؟
دنیا چین اور امریکہ کی اس “خاموش دھاتوں کی جنگ” میں الجھی رہے گی، اور پاکستان؟ وہ شاید صرف اپنی زمین کے نیچے چھپے خزانے کو یونہی بےکار چھوڑے بیٹھا رہے۔
چین نے مستقبل کی جنگ میں خاموشی سے ایک خطرناک چال چل دی ہے۔ امریکہ جوابی چالیں چل رہا ہے، لیکن اگر پاکستان نے ابھی سے اپنے معدنیاتی اثاثوں پر توجہ نہ دی، تو وہ صرف خاموش تماشائی ہی رہے گا۔
وقت ہے کہ ہم “زمین کے نیچے” چھپے سونے کو، زمین کے اوپر معیشت میں بدلیں — ورنہ یہ دھاتیں ہماری قسمت بدلنے سے پہلے ہی دوسرے ملکوں کو طاقتور بنا دیں گی۔