امریکی ٹیرف میں اضافہ پاکستان میں آئی فونز کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ.

دنیا بھر میں صارفین کی ایک بڑی تعداد یہ جاننے میں دلچسپی رکھتی ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشمکش اور عالمی منڈیوں میں گراوٹ ان کے روزمرہ اخراجات پر کیسے اثر انداز ہو رہی ہے۔ خاص طور پر امریکی برانڈز جیسے ایپل اور نائیکی کی مصنوعات کی قیمتیں اس صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ نے چین سے درآمد کی جانے والی کئی اشیاء پر اضافی ٹیکسز (ٹیرف) عائد کیے ہیں۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ قدم اٹھایا گیا، جس کے تحت چین میں تیار کی جانے والی کچھ امریکی مصنوعات بھی زد میں آ گئی ہیں۔ انہی میں ایپل کا مشہور آئی فون بھی شامل ہے، جو دنیا بھر میں بہت بڑی تعداد میں فروخت ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایپل نے ان نئے ٹیرفز کا اثر صارفین تک منتقل کیا تو آئی فون کی قیمت میں 30 سے 40 فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔ موجودہ وقت میں آئی فون 16 کا ابتدائی ماڈل امریکہ میں 799 ڈالر میں دستیاب ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 2 لاکھ 24 ہزار روپے بنتا ہے۔ لیکن اگر قیمتوں میں متوقع اضافہ ہو گیا تو یہی ماڈل 1142 ڈالر یعنی تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ پرو میکس ماڈل کی بات کریں تو اس کی قیمت 1599 ڈالر سے بڑھ کر ممکنہ طور پر 2300 ڈالر (ساڑھے 6 لاکھ روپے) ہو سکتی ہے۔

پاکستان میں ویسے ہی آئی فون کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں خاصی زیادہ ہیں، جس کی بڑی وجہ مختلف قسم کے ٹیکس اور درآمدی ڈیوٹیز ہیں۔ اگر ایپل نے قیمتوں میں اضافہ کر دیا، تو پاکستان میں کچھ ماڈلز کی قیمت 10 لاکھ روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ اسلام آباد کے ایک ڈیلر کے مطابق ابھی تک قیمتوں میں کسی قسم کے اضافے کی تصدیق نہیں ہوئی، البتہ مارکیٹ میں اس حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

صرف ایپل ہی نہیں، بلکہ نائیکی جیسا معروف برانڈ بھی امریکی ٹیرف پالیسی سے متاثر ہو رہا ہے۔ نائیکی کے کئی مشہور جوتے جیسے ایئر جورڈن، ایشیا میں تیار ہوتے ہیں، اور ان پر بھی نئے ٹیرف لاگو کیے گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نائیکی کے حصص کی قیمت میں 14 فیصد کمی آئی ہے اور کمپنی کو سپلائی چین سے متعلق کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نائیکی اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں 10 سے 12 فیصد تک اضافہ کر سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو جوتے پہلے 121 سے 152 ڈالر میں دستیاب تھے، وہ اب 131 سے 166 ڈالر میں فروخت ہو سکتے ہیں۔ دیگر امریکی فیشن برانڈز جیسے ایچ اینڈ ایم، ایڈیڈاس اور گیپ بھی اسی طرح کے مسائل سے دوچار ہیں۔

ماہرین کے مطابق، ان کمپنیوں کے لیے اپنی سپلائی چین کو کسی دوسرے ملک میں منتقل کرنا ایک طویل عمل ہو گا جس میں وقت اور وسائل دونوں درکار ہوں گے۔ جب تک یہ تبدیلیاں مکمل نہیں ہوتیں، صارفین کو مہنگی مصنوعات خریدنے کے لیے تیار رہنا ہو گا، اور اس کا اثر ان کی قوتِ خرید پر پڑ سکتا ہے۔

یہ تجارتی تنازع نہ صرف امریکہ اور چین کے درمیان محدود ہے بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں پہلے ہی ان برانڈز کی مصنوعات عام صارف کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top